بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 464 — باب: تارک نماز کا حکم۔
کتب سنن نسائی کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: تارک نماز کا حکم۔ حدیث 464
الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان جو (فرق کرنے والا) عہد ہے، وہ نماز ہے، تو جو اسے چھوڑ دے گا، کافر ہو جائے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الإیمان 9 (2621)، سنن ابن ماجہ/إقامة 77 (1079)، (تحفة الأشراف: 1960)، مسند احمد 5/346، 355 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جمہور کے نزدیک یہ حکم ایسے شخص کے لیے ہے جو نماز کے ترک کو حلال سمجھے، اور جو شخص محض سستی کی وجہ سے اسے چھوڑ دے تو وہ کافر نہیں ہوتا، لیکن صحابہ کرام سے لے کر آج تک کے بہت سے محققین کے نزدیک نماز کی فرضیت کے عدم انکار کے باوجود عملاً چھوڑ دینے والا بھی کافر ہے، دیکھئیے اس موضوع پر عظیم کتاب تعظيم قدر الصلاة مؤلفہ امام محمد بن نصر مروزی (تحقیق دکتور عبدالرحمٰن الفریوائی)، اور تارک صلاۃ کا حکم تصنیف شیخ ابن عثیمین (ترجمہ: دکتور عبدالرحمٰن الفریوائی)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (463) باب پر واپس اگلی حدیث (465) →