قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلًا , ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا , فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ , إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی کوئی کھجور کے درخت کی پیوند کاری کرے پھر اس درخت کو بیچے تو درخت کا پھل پیوند کاری کرنے والے کا ہو گا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا پھل کی شرط لگا لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4639]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 90 (2203)، 92 (2206)، المساقاة 17 (2379)، الشروط 2 (2716)، صحیح مسلم/البیوع 15 (1543)، سنن ابن ماجہ/التجارات 31 (2210)، (تحفة الأشراف: 8274)، موطا امام مالک/البیوع 7 (9)، مسند احمد (2/6، 9، 4، 5، 63، 78) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ معاملہ ہر قسم کی کھیتی کے بیچنے میں ہو گا، کیونکہ کھیتی میں بیچنے والا خرچ کیا ہوتا ہے، کھجور میں تو تابیر (پیوند کاری) سے پہلے بیچنے والے کا کچھ خرچ نہیں ہوتا ہے اس لیے تابیر (پیوند کاری) کی شرط لگائی گئی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح