زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، يُونُسُ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ , وَالْمُخَابَرَةِ , وَعَنِ الثُّنْيَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ سے اور بیع میں استثناء کرنے سے سوائے اس کے کہ مقدار معلوم ہو منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3911 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی درخت کے پھل بیچتے وقت کچھ غیر معلوم پھل الگ کرنے سے منع فرمایا، اگر الگ کئے ہوئے پھلوں کی مقدار طے ہو تو یہ معاملہ جائز ہے، لیکن یہ مقدار اتنی بھی نہ ہو کہ بیچے ہوئے پھل کی مقدار انتہائی کم رہ جائے، جس سے خریدار کو گھاٹا ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح