عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي رَافِعٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا , فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ بَكْرَهُ , فَقَالَ لِرَجُلٍ:" انْطَلِقْ فَابْتَعْ لَهُ بَكْرًا" , فَأَتَاهُ , فَقَالَ: مَا أَصَبْتُ إِلَّا بَكْرًا رَبَاعِيًا خِيَارًا , فَقَالَ:" أَعْطِهِ , فَإِنَّ خَيْرَ الْمُسْلِمِينَ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص سے اونٹ کے بچے میں بیع سلم کی، وہ شخص اپنے نوجوان اونٹ کا تقاضا کرتا ہوا آیا تو آپ نے ایک شخص سے کہا: ”جاؤ، اس کے لیے نوجوان اونٹ خرید دو“، اس نے آپ کے پاس آ کر کہا: مجھے تو سوائے بہترین، «رباعی» (جو ساتویں برس میں لگ چکا ہو) نوجوان اونٹ کے کوئی نہیں ملا، آپ نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو، اس لیے کہ بہترین مسلمان وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں بہتر ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/البیوع 43 (المساقاة22) (1600)، سنن ابی داود/البیوع 11 (3346)، سنن الترمذی/البیوع 75 (1318)، سنن ابن ماجہ/التجارات 62 (2285)، موطا امام مالک/البیوع 43 (89)، (تحفة الأشراف: 12025)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 31 (2607) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح