زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَبِيعُهُ مِنْهُ , ثُمَّ أَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ , قَالَ:" لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس آدمی آتا ہے اور وہ مجھ سے ایسی چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی۔ کیا میں اس سے اس چیز کو بیچ دوں اور پھر وہ چیز اسے بازار سے خرید کر دے دوں؟ آپ نے فرمایا: ”جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اسے مت بیچو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/البیوع 70 (3503)، سنن الترمذی/البیوع 19 (1232)، سنن ابن ماجہ/التجارات 20 (2187)، (تحفة الأشراف: 3436)، مسند احمد (3/402، 434) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح