عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" فُرِضَتِ الصَّلَاةُ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نماز بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضر میں چار رکعت، سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت فرض کی گئی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین حدیث 6 (687)، سنن ابی داود/الصلاة 287 (1247)، سنن ابن ماجہ/إقامة 73 (1068)، (تحفة الأشراف: 6380)، بدون الشطر الأخیر، حم1/237، 243، 254، 355، ویأتی عند المؤلف (برقم: 1442، 1443، 1533) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی خوف کی حالت میں ایک ہی رکعت پر اکتفا کرے تو جائز ہے، کئی ایک صحابہ کرام اور ائمہ عظام اس کے قائل بھی ہیں، حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس کی صراحت بھی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح