إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بے ناپی کھجور کے ڈھیر کو ناپی ہوئی کھجور سے بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/البیوع 9 (1530)، (تحفة الأشراف: 2820) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی: دونوں کھجوریں خشک ہوں جن کو برابر برابر کے حساب سے بیچ سکتے ہیں، مگر دونوں کی ناپ معلوم ہونی چاہیئے، کیونکہ ایسی چیزوں کی خرید و فروخت میں کم و بیش ہونا جائز نہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح