إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ , أَوْ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عاریت والی بیع میں (یہ) اجازت دی کہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم کھجور اندازہ لگا کر کے بیچی جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 83 (2190)، المساقاة 17 (2382)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1541)، سنن ابی داود/البیوع 21 (3364)، سنن الترمذی/البیوع 63 (1301)، موطا امام مالک/البیوع 9 (14)، (تحفة الأشراف: 14943)، مسند احمد (2/237) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اوپر جو عاریت والی بیع میں یہ اجازت موجود ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور کے بدلے بیچ سکتے ہیں، یہ ایک ضرورت کے تحت اجازت ہے، اور بات ضرورت کی ہے تو پانچ وسق سے یہ ضرورت پوری ہو جاتی ہے، اس لیے صرف پانچ وسق تک کی اجازت ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح