قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ" , فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ , يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ بیع میں دھوکہ کھا جاتا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا: ”جب تم بیچو تو کہہ دیا کرو: فریب اور دھوکہ دھڑی نہ ہو، چنانچہ وہ شخص جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا: دھوکہ دھڑی نہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/البیوع 48 (2117)، الاستقراض 19 (2407)، الخصومات 3 (2414)، الحیل 7 (6964)، صحیح مسلم/البیوع 12 (1533)، سنن ابی داود/البیوع 68 (3500)، (تحفة الأشراف: 7229)، موطا امام مالک/البیوع 46 (98) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ کہہ دینے سے اسے اختیار حاصل ہو جاتا اگر بعد میں اسے پتہ چل جائے کہ اس کے ساتھ چالبازی کی گئی ہے تو وہ اسے فسخ کر سکتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح