عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا , أَوْ يَأْخُذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنَ الْبَيْعِ مَا هَوِيَ , وَيَتَخَايَرَانِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں یا ان میں سے ہر ایک بیع کو اپنی مرضی کے مطابق لے اور وہ تین بار اختیار لیں“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/التجارات 17 (2183)، (تحفة الأشراف: 4600)، مسند احمد (5/12، 17، 21، 22، 23) (ضعیف) (اس کے رواة ’’قتادہ‘‘ اور ’’حسن بصری‘‘ دونوں مدلس ہیں اور ”عنعنہ“ سے روایت کیے ہوئے ہیں، نیز سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کے سماع میں بھی اختلاف ہے، مگر اس حدیث کا پہلا ٹکڑا پہلی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وحديث ابن ماجه (2183) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
الحكم: ضعيف