عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، نَافِعًا ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ خِيَارًا" , قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والے دونوں اپنی بیع کے سلسلے میں اس وقت تک اختیار کے ساتھ رہتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار (اختیاری خرید و فروخت) ہو“۔ نافع کہتے ہیں: چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی ایسی چیز خریدتے جو دل کو بھا گئی ہو تو صاحب معاملہ سے (فوراً) جدا ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، سنن الترمذی/البیوع 26 (1245)، (تحفة الأشراف: 8522) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح