بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4444 — باب: «مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: «مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔ حدیث 4444
حدیث نمبر: 4444 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، شُعْبَةَ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ، فَإِذَا أُنَاسٌ يَرْمُونَ دَجَاجَةً فِي دَارِ الْأَمِيرِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم (حکم بن ایوب) کے یہاں گیا تو دیکھا کہ چند لوگ امیر کے گھر میں ایک مرغی کو نشانہ بنا کر مار رہے ہیں، تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر اس طرح مارا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصید 25 (5513)، صحیح مسلم/الصید 12 (1956)، سنن ابی داود/الأضاحی 12 (2816)، سنن ابن ماجہ/الذبائح10 (3186)، (تحفة الأشراف: 1630)، مسند احمد (3/117، 171، 180، 191) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4443) باب پر واپس اگلی حدیث (4445) →