مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْأَشْعَثِ ، شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سن کر دو باتیں یاد رکھیں ہیں، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو اور تم اپنی چھریاں تیز کر لو تاکہ تم اپنے جانور کو آرام دے سکو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4410 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح