عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، يَحْيَى ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ: أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ"، قَالَ: عِنْدِي عَنَاقُ جَذَعَةٍ , هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ، قَالَ:" اذْبَحْهَا". فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعَةً؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْبَحَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے ذبح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو مسنہ سے زیادہ پسند ہے، آپ نے فرمایا: ”اسی کو ذبح کر دو“۔ عبیداللہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک جذعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو آپ نے انہیں اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11722)، موطا امام مالک/الضحایا 3 (4)، مسند احمد (3/466 و4/45)، سنن الدارمی/الأضاحی7 (2006) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے متفق علیہ ثابت ہے، خود مؤلف کے یہاں 1564 اور 4400 پر گزری ہے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد