بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4387 — باب: مسنہ اور جذعہ کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: قربانی کے احکام و مسائل باب: مسنہ اور جذعہ کا بیان۔ حدیث 4387
حدیث نمبر: 4387 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، ابْنِ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:" ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جذعہ یعنی ایک سال کی بھیڑ کی قربانی کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9969) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اولاً تو اس کے راوی معاذ بن عبداللہ بذات خود صدوق ہونے کے باوجود روایت میں وہم کا شکار ہو جایا کرتے تھے، تو ممکن ہے کہ «جذعۃ من المعز» یا صرف «جذعۃ» ہو اور انہوں نے وہم سے «جذعۃ من الضان» کر دیا ہو، ثانیاً: ہو سکتا ہے کہ یہ مجبوری کی صورت میں ہو، بہرحال بعض علماء اس حدیث اور اگلی دونوں حدیثوں سے استدلال کرتے ہوئے بغیر مجبوری کے بھی ایک سالہ دنبہ کی قربانی کو جائز قرار دیتے ہیں اور «مسنہ» والی حدیث کو استحباب پر محمول کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4386) باب پر واپس اگلی حدیث (4388) →