يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ ، أَبُو إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْقَنَّادُ ، يَحْيَى ، بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل وَهُوَ الْقَنَّادُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ؟ فَقَالَ:" ضَحِّ بِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے، میرے حصے میں ایک جذعہ آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے حصے میں تو ایک جذعہ آیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم اسی کی قربانی کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأضاحي 2 (5547)، صحیح مسلم/الأضاحي 2 (1965)، سنن الترمذی/الأضاحي 7 (100م)، (تحفة الأشراف: 9910) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح