عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، شَرِيكٌ ، عُثْمَانَ الْأَحْلَافِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ الْأَحْلَافِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَدَخَلَتْ أَيَّامُ الْعَشْرِ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا أَظْفَارِهِ". فَذَكَرْتُهُ لِعِكْرِمَةَ، فَقَالَ: أَلَا يَعْتَزِلُ النِّسَاءَ، وَالطِّيبَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جو شخص قربانی کا ارادہ کرے اور (ذی الحجہ کے ابتدائی) دس دن شروع ہو جائیں تو اپنے بال اور اپنے ناخن نہ کترے، میں نے اس چیز کا ذکر عکرمہ سے کیا تو انہوں نے کہا: وہ عورتوں اور خوشبو سے بھی دور رہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر رقم: 4366 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”شریک القاضی“ حافظے کے کمزور ہیں)»
وضاحت
۱؎: ان کو اس بابت مرفوع حدیث نہیں پہنچی تھی اس لیے بطور طنز ایسا کہا، ویسے اس کی سند ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، شريك القاضي عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
الحكم: ضعيف الإسناد