قُتَيْبَةُ ، ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ:" أَنَّ طَبِيبًا ذَكَرَ ضِفْدَعًا فِي دَوَاءٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دوا میں مینڈک کا تذکرہ کیا تو آپ نے اسے مار ڈالنے سے روکا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطب 11 (3871)، الأدب 177 (5269)، (تحفة الأشراف: 9706)، مسند احمد (3/453، 499)، سنن الدارمی/الأضاحي 26 (2041) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مینڈک کو مار کر دوا میں استعمال کرنے سے روکا، کیونکہ یہ نجس و ناپاک ہے اور ناپاک چیزوں سے علاج حرام ہے، نیز مینڈک کو مارنے سے روکنے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا کھانا بھی حرام ہے، کیونکہ کھانے کے لیے بھی قتل کرنا پڑتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح