أخبرنا محمد بن عبد الأعلى أنبأنا أمية بن خالد حدثنا شعبة أن مخارقا أخبرهم عن طارق بن شهاب أن رجلا أجنب فلم يصل فأتى النبي صلى الله عليه و آله وسلم فذكر ذلك له فقال " أصبت " . فأجنب رجل آخر فتيمم وصلى فأتاه فقال نحوا مما قال للآخر يعني " أصبت " .
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک شخص جنبی ہو گیا، تو اس نے نماز نہیں پڑھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا“، پھر ایک دوسرا آدمی جنبی ہوا، تو اس نے تیمم کیا، اور نماز پڑھ لی، تو آپ نے اس سے بھی اسی طرح کی بات کہی جو آپ نے دوسرے سے کہی تھی یعنی تم نے ٹھیک کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 325 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح