مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، سُفْيَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِمَا ، عَلِيٌّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِمَا، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ يَوْمَ خَيْبَرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے دن نکاح متعہ ۱؎ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3367 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نکاح متعہ یعنی وقتی نکاح جو جاہلیت میں کچھ پیسوں کے بدلے کیا جاتا تھا، شروع اسلام میں یہ حلال تھا، پھر جنگ خیبر کے دن ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا گیا۔ اس حدیث میں خاص توجہ کی چیز یہ ہے کہ شیعہ متعہ کو اب بھی حلال مانتے ہیں جب کہ آخری ممانعت کی حدیث علی رضی اللہ عنہ ہی سے ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح