بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 432 — باب: مٹی سے تیمم کرنے کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: غسل اور تیمم کے احکام و مسائل باب: مٹی سے تیمم کرنے کا بیان۔ حدیث 432
الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، هُشَيْمٌ ، سَيَّارٌ ، يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ يُصَلِّي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَمْ يُعْطَ نَبِيٌّ قَبْلِي، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ۱؎: ایک مہینہ کی مسافت پر رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎، میرے لیے پوری روئے زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، تو میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پا لے، نماز پڑھ لے، اور مجھے شفاعت (عظمیٰ) عطا کی گئی ہے، یہ چیز مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور میں سارے انسانوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہوں، اور (مجھ سے پہلے) نبی خاص اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/التیمم 1 (335)، والصلاة 56 (438)، صحیح مسلم/المساجد 3 (521)، (تحفة الأشراف 3139)، مسند احمد 3/304، سنن الدارمی/الصلاة 111(1429)، ویأتي عند المؤلف (برقم 737) مختصر اعلی قولہ: ’’جعلت لي الأرض مسجدا‘‘ الخ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: آگے جو تفصیل بیان کی گئی ہے اس میں صرف چار کا ذکر ہے، پانچویں خصوصیت کا ذکر نہیں، اور وہ مال غنیمت کا حلال کیا جانا ہے جو سابقہ امتوں کے لیے حلال نہیں تھا، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کی امت کے لیے اسے حلال کیا گیا ہے۔ ۲؎: یعنی میرا دشمن ایک مہینہ کی مسافت پر ہو تبھی سے میرا رعب اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (431) باب پر واپس اگلی حدیث (433) →