إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ، وَالْكَلْبِ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَحَدِيثُ حَجَّاجٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، لَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلی ۱؎ اور کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا، سوائے شکاری کتے کے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: حماد بن سلمہ سے حجاج (حجاج بن محمد) نے جو حدیث روایت کی ہے وہ صحیح نہیں ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2697)، ویأتي عند المؤلف في البیوع 90 (برقم: 4672) (صحیح) ’’إلا کلب صید‘‘ کا جملہ امام نسائی کے یہاں صحیح نہیں ہے، لیکن البانی صاحب نے طرق اور شواہد کی روشنی میں اس کو بھی صحیح قرار دیا ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 2971، 2990، وتراجع الالبانی 226)»
وضاحت
۱؎: چونکہ بلی سے کوئی ایسا فائدہ جو مقصود ہو حاصل ہونے والا نہیں اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے اور یہی اس کے حرام ہونے کی علت اور اس کا سبب ہے۔ ۲؎: اس کے راوی ”ابوالزبیر“ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور یہ لفظ مسلم کی روایت میں ہے بھی نہیں ہے، انہیں اسباب و وجوہ سے بہت سے ائمہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئیے فتح الباری (۴/۴۲۷) اور التعلیقات السلفیہ۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، الحديث الآتي (4672) أبو الزبير عنعن. وللحديث شواهد ضعيف،ة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
الحكم: صحيح