بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 43 — باب: ایک پتھر سے استنجاء کرنے کی اجازت کا بیان۔
کتب سنن نسائی ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ باب: ایک پتھر سے استنجاء کرنے کی اجازت کا بیان۔ حدیث 43
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب استنجاء کرو تو طاق (ڈھیلا) استعمال کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 43]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطہارة 21 (27)، سنن ابن ماجہ/فیہ 44 (406)، (تحفة الأشراف: 4556)، مسند احمد 4/ 313، 339، 340، «کلہم بزیادة إذا توضأت فانثر، ویأتي عند المؤلف برقم: 89، بزیادة اذا توضات فاستنثر» (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مؤلف کا استدلال «فأوتر‏» کے لفظ سے ہے جو مطلق لفظ ہے اور ایک پتھر کے کافی ہونے کو بھی وتر کہیں گے لیکن اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطلق مقید پر محمول کیا جاتا ہے، یعنی طاق سے مراد تین یا تین سے زیادہ پانچ وغیرہ مراد ہے، کیونکہ اصول یہ ہے ایک حدیث دوسرے حدیث کی وضاحت کرتی ہے اور تین کی قید حدیث رقم: ۴۱ میں آ چکی ہے، اس لیے طاق سے تین والا طاق مراد ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (42) باب پر واپس اگلی حدیث (44) →