أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، الشَّعْبِيُّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَكَانَ لَنَا جَارًا، وَدَخِيلًا، وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ؟، قَالَ:" لَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شعبی کہتے ہیں کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نہرین میں ہمارے پڑوسی تھے، ہمارے گھر آتے جاتے تھے اور ایک زاہد شخص تھے، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو میں اپنے کتے کے ساتھ ایک کتا دیکھتا ہوں جس نے شکار پکڑ رکھا ہے مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ ان میں سے کس نے پکڑا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے «بسم اللہ» صرف اپنے کتے پر پڑھی تھی، دوسرے پر نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، (تحفة الأشراف: 9861)، مسند احمد (4/256) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح