عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ ، مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، مَعْمَرٍ ، عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَخَالَطَتْهُ أَكْلُبٌ لَمْ تُسَمِّ عَلَيْهَا، فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيَّهَا قَتَلَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکار کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: ”جب تم (شکار پر) اپنا کتا چھوڑو پھر اس کے ساتھ کچھ ایسے کتے بھی شریک ہو جائیں جن پر تم نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے تو تم اسے مت کھاؤ۔ اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ اسے کس کتے نے قتل کیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح