الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهُورِ؟ قَالَ:" خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ:" تَوَضَّئِي بِهَا،" قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَتْ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ وَأَعْرَضَ عَنْهَا، فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَخَذْتُهَا وَجَبَذْتُهَا إِلَيَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں طہارت کے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم مشک کا ایک پھاہا لو، اور اس سے پاکی حاصل کرو“، اس نے کہا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پاکی حاصل کرو“، اس نے (پھر) عرض کیا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سبحان اللہ کہا، اور اس سے اپنا رخ مبارک پھیر لیا، عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سمجھ گئیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بتانا چاہ رہے تھے، آپ کہتی ہیں: تو میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو چاہ رہے تھے اسے بتایا“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 252 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح