بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4229 — باب:
کتب سنن نسائی کتاب: فرع و عتیرہ کے احکام و مسائل باب: حدیث 4229
حدیث نمبر: 4229 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ مُعَاذٍ ، ابْنُ عَوْنٍ ، أَبُو رَمْلَةَ ، مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً". قَالَ مُعَاذٌ: كَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَعْتِرُ أَبْصَرَتْهُ عَيْنِي فِي رَجَبٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال قربانی اور عتیرہ ہے ۱؎۔ معاذ کہتے ہیں: ابن عون رجب میں عتیرہ کرتے تھے، ایسا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الضحایا 1(2788)، سنن الترمذی/الضحایا 19 (1518)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 2 (3125)، (تحفة الأشراف: 11244)، مسند احمد (4/215، 5/76) (حسن)»
وضاحت
۱؎: فرع اور عتیرہ کے سلسلے میں مروی تمام احادیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں ایام جاہلیت میں جاہلی انداز میں انجام دیئے جاتے تھے جس میں شرک کی ملاوٹ ہوتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام میں ان کو جائز قرار تو دیا، مگر وہ شرک و کفر سے خالی اور جاہلی عادات کی مشابہت سے دور ہو، اور اگر نہ انجام دیئے جائیں تو بہتر ہے، خاص طور پر فرع کو اگر چھوڑ رکھا جائے تو یہ جانور بڑا ہو کر زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے، واللہ اعلم (دیکھئیے اگلی روایات)۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2788) ترمذي (1518) ابن ماجه (3125) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (4228) باب پر واپس اگلی حدیث (4230) →