بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4214 — باب: ظالم حکمراں کے پاس حق بات کہنے والے کی فضیلت کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: بیعت کے احکام و مسائل باب: ظالم حکمراں کے پاس حق بات کہنے والے کی فضیلت کا بیان۔ حدیث 4214
حدیث نمبر: 4214 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ ۱؎ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا اور وہ یا آپ اپنا پیر رکاب میں رکھے ہوئے تھے، کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ظالم حکمراں کے پاس حق اور سچ کہنا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4983)، مسند احمد (4/314، 315) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھنے کا شرف تو حاصل ہے مگر آپ سے خود کوئی حدیث نہیں سنی تھی، آپ کی روایت کسی اور صحابی کے واسطہ سے ہوتی ہے، اور اس صحابی کا نام نہ معلوم ہونے سے حدیث کی صحت میں فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ سارے صحابہ کرام ثقہ ہیں اور سند سے معلوم ثقہ، بالخصوص صحابی کا ساقط ہونا حدیث کی صحت میں موثر نہیں، اس لیے کہ سارے صحابہ ثقہ اور عدول ہیں، اس طرح کی حدیث جس میں حدیث نقل کرنے میں صحابی واسطہ صحابی کا ذکر کئے بغیر حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کر دے، علمائے حدیث کی اصطلاح میں مرسل صحابی کہتے ہیں، اور مرسل صحابی مقبول و مستفید ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4213) باب پر واپس اگلی حدیث (4215) →