بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4192 — باب: طاقت بھر حاکم کی سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) کی بیعت کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: بیعت کے احکام و مسائل باب: طاقت بھر حاکم کی سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) کی بیعت کا بیان۔ حدیث 4192
حدیث نمبر: 4192 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ. ح وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ:" فِيمَا اسْتَطَعْتَ". وَقَالَ عَلِيٌّ:" فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ فرماتے تھے: جتنی تمہاری طاقت ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإمارة 22 (1867)، سنن الترمذی/السیر 34 (1593)، (تحفة الأشراف: 7127، 7174)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأحکام 43 (7202)، موطا امام مالک/البیعة 1(1)، مسند احمد (2/62، 81، 101، 139) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: دین اسلام کی طبیعت ہی اللہ تعالیٰ نے یہی رکھی ہے کہ بن دوں پر ان کی طبعی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے۔ قرآن میں ارشاد ربانی ہے: «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها» اللہ تعالیٰ نے کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے (البقرة: 286)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4191) باب پر واپس اگلی حدیث (4193) →