أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، الْحَسَنِ ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي بَكْرَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ , فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟، قَالَ:" إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے آخر مقتول کا کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے بھی اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 22 (31)، الدیات 2 (6875)، الفتن 10 (7082)، صحیح مسلم/الفتن 4 (2888)، سنن ابی داود/الفتن 5 (4268، 4269)، (تحفة الأشراف: 11655)، مسند احمد (5/43، 51) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح