عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ ، خَلَفٌ ، زَائِدَةَ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي بَكْرَةَ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُرِيدُ قَتْلَ صَاحِبِهِ , فَهُمَا فِي النَّارِ". قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟، قَالَ:" إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں، ان میں سے ہر ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتا ہو، تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے“۔ آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے لیکن مقتول کا کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا حریص اور خواہشمند تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11666)، مسند احمد 5/46، 51، یأتي فیما یلي: 4126 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح