إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاق ، عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قِتَالُ الْمُسْلِمِ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان سے لڑنا کفر (کا کام) اور اسے گالی دینا فسق ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3908)، مسند احمد (1/176، 187) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «فسق» اللہ کی اطاعت سے نکل جانے کو کہتے ہیں، مسلمان کو گالی دینا اور سب وشتم کرنا بھی «فسق» ہے، اور یہاں «کفر» سے مراد کافروں کا عمل ہے، یعنی: ایک مسلمان کو کافر ہی ناحق قتل کرتا ہے کوئی مسلمان نہیں، یہ بطور زجز و توبیخ کے ہے نہ کہ ایسے عمل کو حقیقی کفر کہا گیا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح