أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مَالِكٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، نَافِعًا ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الفتن 7 (7070)، صحیح مسلم/الإیمان 42 (98)، (تحفة الأشراف: 8364)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 19 (2576)، مسند احمد (2/3، 53) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہاں بھی ”ہتھیار اٹھانے“ سے مراد ”ناحق ہتھیار“ اٹھانا ہے، مسلمانوں کی ناحق خونریزی پر یہ شدید وعید سنائی گئی ہے کہ ایسے عمل کے مرتکب کو اگر قتل کر دیا جائے تو اس کے خون کا نہ تو قصاص ہے اور نہ ہی دیت۔ اور یہ کہ ایسا آدمی امت محمدیہ کے زمرہ سے خارج ہے۔ «فاعتبروا یا أولی الأبصار» (عبرت حاصل کرنی چاہیئے)۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح