أَبُو دَاوُد ، يَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، أَبِي بَرْزَةَ ، أَبِي بَكْرٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: وَلِمَ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِي غَضَبَهُ، ثُمَّ قَالَ:" مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی پر غصہ ہو رہے تھے، میں نے کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! یہ کون ہے جس پر آپ غصہ ہو رہے ہیں؟ کہا: آخر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے کہا: تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ ابوبرزہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میری اس بات کی سنگینی نے ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا، پھر بولے: محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح