عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، شُعْبَةُ ، تَوْبَةَ الْعَنبَرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُدَامَةَ بْنِ عَنَزَةَ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنبَرِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُدَامَةَ بْنِ عَنَزَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: أَغْلَظَ رَجُلٌ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقُلْتُ: أَقْتُلُهُ. فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ:" لَيْسَ هَذَا لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سخت کلامی کی تو میں نے کہا کہ کیا میں اسے قتل کر دوں؟ تو آپ نے مجھے جھڑکا اور کہا: یہ مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی کا نہیں ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4076]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحدود 2 (4363)، (تحفة الأشراف: 6621)، مسند احمد (1/9، 10)، ویأتي فیما یلي: 4077- 4082 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے اور سب و شتم پر کسی کو قتل کیا جائے گا، آپ کے سوا کسی کا یہ مرتبہ و مقام نہیں کہ اس کو سب و شتم کرنے والے کو قتل کی سزا دی جائے، ہاں تعزیر کی جا سکتی ہے، جو معاملہ کی نوعیت اور قاضی (جج) کی رائے پر منحصر ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح