زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِذَا قَالُوهَا فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ"، فَلَمَّا كَانَتِ الرِّدَّةُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: أَتُقَاتِلُهُمْ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ , وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا , فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رُشْدًا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سُفْيَانُ فِي الزُّهْرِيِّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ , وَهُوَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ”لا الٰہ الا اللہ“ نہ کہیں، جب وہ لوگ یہ کہنے لگیں تو اب انہوں نے اپنے خون، اپنے مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ پر ہے، پھر جب «ردت» کا واقعہ ہوا (مرتد ہونے والے مرتد ہو گئے) تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ان سے جنگ کریں گے حالانکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسا اور ایسا فرماتے سنا ہے؟ تو وہ بولے: اللہ کی قسم! میں نماز اور زکاۃ میں تفریق نہیں کروں گا، اور میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو ان کے درمیان تفریق کرے گا، پھر ہم ان کے ساتھ لڑے اور اسی چیز کو ہم نے ٹھیک اور درست پایا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: زہری سے روایت کرنے والے سفیان قوی نہیں ہیں اور ان سے مراد سفیان بن حسین ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2445 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح