بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3968 — باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔
کتب سنن نسائی کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔ حدیث 3968
حدیث نمبر: 3968 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، شَرِيكٌ ، طَارِقٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِإِجَارَةِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خالی زمین کو سونے، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف: 18707) (ضعیف) (اس کے راوی ’’شریک القاضی‘‘ ضعیف الحفظ ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، شريك القاضي عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350
الحكم: ضعيف الإسناد مقطوع
← پچھلی حدیث (3967) باب پر واپس اگلی حدیث (3969) →