أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، أَبِي ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُ هَذَا؟". فَقِيلَ: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ. فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا"، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ عرض کیا گیا: اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: ”اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 799) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح