مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل التِّرْمِذِيُّ ، أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ ، يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل التِّرْمِذِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ , وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ , أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ الْيَمَامَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ , خَالَفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ”سلیمان بن ارقم“ متروک الحدیث راوی ہے، واللہ اعلم، اس حدیث کے سلسلے میں یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے کئی ایک نے سلیمان بن ارقم کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأیمان 23 (3292)، سنن الترمذی/الأیمان 1 (1525)، (تحفة الأشراف: 17782) (صحیح) (اس کے راوی ”سلیمان بن ارقم“ ضعیف ہیں، لیکن اس کی پچھلی سندیں صحیح ہیں)»
وضاحت
۱؎: یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے سلیمان بن ارقم جو متروک الحدیث ہیں نے یحییٰ سے حدیث کی روایت میں ثقافت کی مخالفت کی ہے، لیکن اصل حدیث دوسرے رواۃ سے ثابت ہے، اور یہ مخالفت بعد کی سندوں میں ظاہر ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح