إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ , وَلَا فِي مَعْصِيَةٍ , وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأیمان 15 (3274مطولا)، مسند احمد (2/112) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک نہیں اس میں نذر اور قسم نہیں، لیکن دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر اور قسم تو ہو جاتی ہے لیکن ان کو پورا نہیں کیا جائے گا اور (قسم کا) کفارہ ادا کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح