زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ طَاوُسٍ لَعَلَّهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَا رُقْبَى فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رقبیٰ (مصلحتاً جائز) نہیں ہے (لیکن اگر کسی نے کر دیا ہے) تو جسے رقبیٰ کیا گیا ہے اس کے ورثاء کو میراث میں ملے گا، دینے والے کو واپس نہ ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الرقبى/حدیث: 3738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5728)، مسند احمد (1/250) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح