بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3684 — باب: میت کی طرف سے صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: وصیت کے احکام و مسائل باب: میت کی طرف سے صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔ حدیث 3684
حدیث نمبر: 3684 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَن ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تُوصِ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: میری ماں مر چکی ہیں اور کوئی وصیت نہیں کی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں کر دو۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوصایا 20 (2770)، سنن ابی داود/الوصایا 15 (2882 مطولا)، سنن الترمذی/الزکاة 33 (669 مطولا)، (تحفة الأشراف: 6164) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو کیا اس صدقہ کا ثواب انہیں ملے گا؟۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3683) باب پر واپس اگلی حدیث (3685) →