إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةُ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، ابْنَ غُنْمٍ ذَكَرَ ، ابْنَ خَارِجَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّ ابْنَ غُنْمٍ ذَكَرَ، أَنَّ ابْنَ خَارِجَةَ ذَكَرَ لَهُ، أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنَّهَا لَتَقْصَعُ بِجَرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعَابَهَا لَيَسِيلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَسَّمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ قِسْمَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، فَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ نے ذکر کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس خطبہ میں موجود تھے جو آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر دے رہے تھے، سواری جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میراث سے ہر انسان کا حصہ تقسیم فرما دیا ہے تو کسی وارث کے لیے وصیت کرنا درست اور جائز نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«(تحفة الأشراف: 10731)، انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح