بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3662 — باب: تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: وصیت کے احکام و مسائل باب: تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان۔ حدیث 3662
حدیث نمبر: 3662 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، سَعْدٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَهُ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَالشَّطْرَ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَالثُّلُثَ؟ قَالَ:" الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی بیماری میں ان کی عیادت کی، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، کہا: آدھے کی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، کہا: تہائی کی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ایک تہائی کی کر دو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3906)، مسند احمد (1/172) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد
← پچھلی حدیث (3661) باب پر واپس اگلی حدیث (3663) →