عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ {1} حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ {2} سورة التكاثر آية 1-2، قَالَ: يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَإِنَّمَا مَالُكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ” «ألهاكم التكاثر * حتى زرتم المقابر» (کثرت و زیادتی) کی چاہت نے تمہیں غفلت میں ڈال دیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے“ آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے: میرا مال، میرا مال کہتا ہے؟ (لیکن حقیقت میں) تمہارا مال تو صرف وہ ہے جو تم نے کھا (پی) کر ختم کر دیا، یا پہن کر بوسیدہ اور پرانا کر دیا یا صدقہ کر کے اسے آخرت کے لیے آگے بھیج دیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الزہد 1 (2958)، سنن الترمذی/الحج 31 (2342)، تفسیر اتکاتر 49 (3354)، (تحفة الأشراف: 5346)، مسند احمد (4/24، 26) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح