عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَابَقَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَسَبَقَهُ، فَكَأَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ ذَلِكَ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ:" حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْءٌ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ اللَّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (اونٹنی کی) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا، اس سے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز (رنج و ملال) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 696) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح