بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3336 — باب: نکاحِ شغار (یعنی بیٹی یا بہن کے مہر کے بدلے دوسرے کی بہن یا بیٹی سے شادی کرنے کی ممانعت) کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل باب: نکاحِ شغار (یعنی بیٹی یا بہن کے مہر کے بدلے دوسرے کی بہن یا بیٹی سے شادی کرنے کی ممانعت) کا بیان۔ حدیث 3336
حدیث نمبر: 3336 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الشِّغَارِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/النکاح 28 (5112)، الحیل4 (6960) مطولا، صحیح مسلم/النکاح 7 (1415)، سنن ابی داود/النکاح 15 (2074)، (تحفة الأشراف: 8141)، مسند احمد (2/7، 19، 62) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نکاح شغار یعنی کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کو دوسرے کی نکاح میں اُس کی بہن یا بیٹی سے اپنے ساتھ نکاح کرنے کے عوض میں بلا مہر دیدے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3335) باب پر واپس اگلی حدیث (3337) →