أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبُو نُعَيْمٍ ، الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، السُّدِّيِّ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، الْبَرَاءِ ، خَالِي
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ، فقلت أين تريد؟ قَالَ:" أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ أَوْ أَقْتُلَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا، تو ان کے پاس جھنڈا تھا۔ تو میں نے اُن سے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک ایسے شخص کی گردن اڑا دینے یا اسے قتل کر دینے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کی بیوی سے شادی کر لی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحدود 27 (4456)، سنن الترمذی/الأحکام 25 (1362)، سنن ابن ماجہ/الحدود 35 (2607)، (تحفة الأشراف: 15534)، مسند احمد (4/292، 295، 297)، سنن الدارمی/النکاح 43 (2285) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: راوی (براء) کو شک ہو گیا ہے کہ ماموں نے «أن أضرب عنقہ» ”میں اس کی گردن مار دوں“ کہا یا «أقتلہ» ”میں اسے قتل کر دوں“ کہا، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح