عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، جُدَامَةَ بِنْتَ وَهْبٍ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ جُدَامَةَ بِنْتَ وَهْبٍ حَدَّثَتْهَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ فَارِسَ , وَالرُّومَ يَصْنَعُهُ" , وَقَالَ إِسْحَاق:" يَصْنَعُونَهُ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جدامہ بنت وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ارادہ ہوا کہ «غیلہ» سے روک دوں پھر مجھے خیال ہوا کہ روم و فارس کے لوگ بھی «غیلہ» کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا“۔ اسحاق (راوی) کی روایت میں «یصنعہ» کی جگہ «یصنعونہ» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/النکاح 24 (1442)، سنن ابی داود/الطب 16 (3882)، سنن الترمذی/الطب 27 (2076)، سنن ابن ماجہ/النکاح 6 (2011)، (تحفة الأشراف: 15786)، موطا امام مالک/الرضاع 3 (16)، مسند احمد (6/361، 434)، سنن الدارمی/النکاح 33 (2263) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «غیلہ» یعنی دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح