أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْوَزِيرِ ، ابْنَ وَهْبٍ ، سُلَيْمَانُ ، يَحْيَى ، وَرَبِيعَةُ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْوَزِيرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى، وَرَبِيعَةُ , عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَتَّى تَذْهَبَ غَيْرَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ، قَالَ رَبِيعَةُ: فَكَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوحذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ تم ابوحذیفہ کے غلام سالم کو دودھ پلا دو تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت (ناگواری) ختم ہو جائے۔ تو انہوں نے انہیں دودھ پلا دیا اور وہ (بچے نہیں) پورے مرد تھے۔ ربیعہ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں: یہ رخصت صرف سالم کے لیے تھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17452)، مسند احمد (6/249) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی کسی دوسرے بڑے شخص کو دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہو گی، جمہور کی رائے یہی ہے کہ یہ سالم کے ساتھ خاص تھا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد